اپنی آواز بھی کھو جاتی ہے تنہائی میں
Monday, October 23rd, 2006اپنی آواز بھی کھو جاتی ہے تنہائی میںدل کے سناٹوں میں وہ شور بپا ہوتا ہے
_
_
apni awaz bhi khoo jati hai tunhai mein
dil kay sanatoon mein woh shoor bapa hota hai
اپنی آواز بھی کھو جاتی ہے تنہائی میںدل کے سناٹوں میں وہ شور بپا ہوتا ہے
_
_
apni awaz bhi khoo jati hai tunhai mein
dil kay sanatoon mein woh shoor bapa hota hai
جان ایلیا
وقت گزرا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گاسازَ امروز کا ہر تار بکھر جائے گا
__________________________________
Waqat Guzra Hai Guzarta Hai Guzar Jai ga
Saaz e Amrooz Ka Har Taar Bikhar Jaye ga
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئےاک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے
یہ ضروری تو نہیں آگ سے جل جائے بشربعض لوگوں کو مقدر بھی جلا دیتے ہیں
نام ہم نے لکھا تھا آنکھوں میںآنسووں نے مٹا دیا ہو گا
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دونہ جانے کس گلی میں زندگی […]
زخم جو آپ کی عنایت ہے اس نشانی کو کیا نام دیں ھمپیار دیوار بن کے رہ گیا ھے اس کہانی کو کیا نام دیں ھم
مسافتوں میں کبھی یوں بھی معتبر ٹھہروںکے دو قدم ہی سہی اس کا ہمسفر ٹھہروںنجانے کب وہ درِجاں پہ آکے دستک دےاسی امید پہ ہر وقت اپنے گھر ٹھہروں
نہ رہا […]
طبعیت ان دنوں بےگا نہءغم ہوتی جا تی ہےمیرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے